Jaun Elia

جون ایلیا

کب اس کا وصال چاہیے تھا

بس ایک خیال چاہیے تھا


کب دل کو جواب سے غرض تھی

ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا


شوق ایک نفس تھا اور وفا کو

پاس مہ و سال چاہیے تھا


اک چہرۂ سادہ تھا جو ہم کو

بے مثل و مثال چاہیے تھا


اک کرب میں ذات و زندگی ہیں

ممکن کو محال چاہیے تھا


میں کیا ہوں بس اک ملال ماضی

اس شخص کو حال چاہیے تھا


ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو

کچھ دن تو ملال چاہیے تھا


وہ جسم جمال تھا سراپا

اور مجھ کو جمال چاہیے تھا


وہ شوخ رمیدہ مجھ کو اپنی

بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا


تھا وہ جو کمال شوق وصلت

خواہش کو زوال چاہیے تھا


جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے

وہ سال بہ سال چاہیے تھا



www.000webhost.com