Jaun Elia

جون ایلیا

جز گماں اور تھا ہی کیا میرا

فقط اک میرا نام تھا میرا


نکہت پیرہن سے اس گل کی

سلسلہ بے صبا رہا میرا


مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی

مجھ میں کھویا رہا خدا میرا


تھوک دے خون جان لے وہ اگر

عالم ترک مدعا میرا


جب تجھے میری چاہ تھی جاناں

بس وہی وقت تھا کڑا میرا


کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا

اتنا آسان ہے پتا میرا


آ چکا پیش وہ مروت سے

اب چلوں کام ہو چکا میرا


آج میں خود سے ہو گیا مایوس

آج اک یار مر گیا میرا



www.000webhost.com