Jaun Elia

جون ایلیا

جانے کہاں گیا ہے وہ وہ جو ابھی یہاں تھا

وہ جو ابھی یہاں تھا وہ کون تھا کہاں تھا


تا لمحۂ گزشتہ یہ جسم اور سائے

زندہ تھے رائیگاں میں جو کچھ تھا رائیگاں تھا


اب جس کی دید کا ہے سودا ہمارے سر میں

وہ اپنی ہی نظر میں اپنا ہی اک سماں تھا


کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو

سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائیگاں تھا


یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر

تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا


اس شہر کی حفاظت کرنی تھی ہم کو جس میں

آندھی کی تھیں فصیلیں اور گرد کا مکاں تھا


تھی اک عجب فضا سی امکان خال و خد کی

تھا اک عجب مصور اور وہ مرا گماں تھا


عمریں گزر گئی تھیں ہم کو یقیں سے بچھڑے

اور لمحہ اک گماں کا صدیوں میں بے اماں تھا


جب ڈوبتا چلا میں تاریکیوں کی تہ میں

تہ میں تھا اک دریچہ اور اس میں آسماں تھا



www.000webhost.com