Jaun Elia

جون ایلیا

انقلاب ایک خواب ہے سو ہے

دل کی دنیا خراب ہے سو ہے


رہیو تو یوں ہی محو آرایش

باہر اک اضطراب ہے سو ہے


تر ہے دشت اس کے عکس منظر سے

اور خود وہ سراب ہے سو ہے


جو بھی دشت طلب کا ہے پس رو

وہی زریں رکاب ہے سو ہے


شیخ صاحب لیے پھریں تیغا

برہمن فتح یاب ہے سو ہے


دہر آشوب ہے سوالوں کا

اور خدا لا جواب ہے سو ہے


اس شب تیرۂ ہمیشہ میں

روشنی ایک خواب ہے سو ہے



www.000webhost.com