Jaun Elia

جون ایلیا

حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے

کہ دار پر گئے ہم اور پھر اتر آئے


عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز

بہ سوئے باد یہ محمل میں بیٹھ کر آئے


کبھی گئے تھے میاں جو خبر کے صحرا کی

وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے


کوئی جنوں نہیں سودائیان صحرا کو

کہ جو عذاب بھی آئے وہ شہر پر آئے


بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا

پرندگان ہوا خاک پر اتر آئے


عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو

خیال خام کا تاوان تھا سو بھر آئے



www.000webhost.com