Jaun Elia

جون ایلیا

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں


تم اپنے چاہنے والوں کی بات مت سنیو

تمہارے چاہنے والے دوانے ہو گئے ہیں


وہ زلف دھوپ میں فرقت کی آئی ہے جب یاد

تو بادل آئے ہیں اور شامیانے ہو گئے ہیں


جو اپنے طور سے ہم نے کبھی گزارے تھے

وہ صبح و شام تو جیسے فسانے ہو گئے ہیں


عجب مہک تھی مرے گل ترے شبستاں کی

سو بلبلوں کے وہاں آشیانے ہو گئے ہیں


ہمارے بعد جو آئیں انہیں مبارک ہو

جہاں تھے کنج وہاں کارخانے ہو گئے ہیں



www.000webhost.com