Jaun Elia

جون ایلیا

ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں

بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں


ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر

ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں


ان کو آندھی میں ہی بکھرنا تھا

بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں


اب ہمارا مکان کس کا ہے

ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں


ہو تری خاک آستاں پہ سلام

ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں


ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا

کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں


دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو

لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں


اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا

جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں



www.000webhost.com