Jaun Elia

جون ایلیا

ہم رہے پر نہیں رہے آباد

یاد کے گھر نہیں رہے آباد


کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر

کتنے منظر نہیں رہے آباد


ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا

ہم لبوں پر نہیں رہے آباد


شہر دل میں عجب محلے تھے

ان میں اکثر نہیں رہے آباد


جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ

اپنے اندر نہیں رہے آباد



www.000webhost.com