Jaun Elia

جون ایلیا

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی


تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے

یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی


تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے

حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی


اس کی امید ناز کا ہم سے یہ مان تھا کہ آپ

عمر گزار دیجیے عمر گزار دی گئی


ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی


بعد بھی تیرے جان جاں دل میں رہا عجب سماں

یاد رہی تری یہاں پھر تری یاد بھی گئی


اس کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن میں اور پھر

اس کے بدن کے واسطے ایک قبا بھی سی گئی


مینا بہ مینا مے بہ مے جام بہ جام جم بہ جم

ناف پیالے کی ترے یاد عجب سہی گئی


کہنی ہے مجھ کو ایک بات آپ سے یعنی آپ سے

آپ کے شہر وصل میں لذت ہجر بھی گئی


صحن خیال یار میں کی نہ بسر شب فراق

جب سے وہ چاندنا گیا جب سے وہ چاندنی گئی



www.000webhost.com