Jaun Elia

جون ایلیا

ہے عجب حال یہ زمانے کا

یاد بھی طور ہے بھلانے کا


پسند آیا بہت ہمیں پیشہ

خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا


کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی

عیش دفتر میں گنگنانے کا


آسماں ہے خموشئ جاوید

میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا


جان کیا اب ترا پیالۂ ناف

نشہ مجھ کو نہیں پلانے کا


شوق ہے اس دل درندہ کو

آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا


اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں

اب نہیں خود کو آزمانے کا


کیا کہوں جان کو بچانے میں

جونؔ خطرہ ہے جان جانے کا


یہ جہاں جونؔ اک جہنم ہے

یاں خدا بھی نہیں ہے آنے کا


زندگی ایک فن ہے لمحوں کو

اپنے انداز سے گنوانے کا



www.000webhost.com