Jaun Elia

جون ایلیا

گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں

ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں


ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا

دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں


دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا

سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں


یعنی کیا کچھ بھلا دیا ہم نے

اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں


ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے

ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں


ہے عجب اس کا حال ہجر کہ ہم

گاہے گاہے سنورتے رہتے ہیں


دل کے سب زخم پیشہ ور ہیں میاں

آن ہا آن بھرتے رہتے ہیں



www.000webhost.com