Jaun Elia

جون ایلیا

گفتگو جب محال کی ہوگی

بات اس کی مثال کی ہوگی


زندگی ہے خیال کی اک بات

جو کسی بے خیال کی ہوگی


تھی جو خوشبو صبا کی چادر میں

وہ تمہاری ہی شال کی ہوگی


نہ سمجھ پائیں گے وہ اہل فراق

جو اذیت وصال کی ہوگی


دل پہ طاری ہے اک کمال خوشی

شاید اپنے زوال کی ہوگی


جو عطا ہو وصال جاناں کی

وہ اداسی کمال کی ہوگی


آج کہنا ہے دل کو حال اپنا

آج تو سب کے حال کی ہوگی


ہو چکا میں سو فکر یاروں کو

اب مری دیکھ بھال کی ہوگی


اب خلش کیا فراق کی اس کے

اک خلش ماہ و سال کی ہوگی


کفر و ایماں کہا گیا جس کو

بات وہ خد و خال کی ہوگی


جونؔ دل کے ختن میں آیا ہے

ہر غزل اک غزال کی ہوگی


کب بھلا آئے گی جواب کو راس

جو بھی حالت سوال کی ہوگی



www.000webhost.com