Jaun Elia

جون ایلیا

گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے

اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے


ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی

جام ہوں گے چھلک گئے ہوں گے


وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہوگا

ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے


شب جو ہم سے ہوا معاف کرو

نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے


کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں

دار پر خود لٹک گئے ہوں گے


شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں

پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے


ہم تو اپنی تلاش میں اکثر

از سما تا سمک گئے ہوں گے


اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی

ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے


جونؔ اللہ اور یہ عالم

بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے



www.000webhost.com