Jaun Elia

جون ایلیا

جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی

چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی


چاند نے تان لی ہے چادر ابر

اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی


سو گئی ہوگی وہ شفق اندام

سبز قندیل جل رہی ہوگی


سرخ اور سبز وادیوں کی طرف

وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی


چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر

اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی


پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر

وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی


نیلگوں جھیل ناف تک پہنے

صندلیں جسم مل رہی ہوگی


ہو کے وہ خواب عیش سے بیدار

کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی



www.000webhost.com