Jaun Elia

جون ایلیا

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے


ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیں

ترے لیے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے


ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا

سو اپنی بیخ کنی کی کمی نہ کی میں نے


ہیں میری ذات سے منسوب صد فسانۂ عشق

اور ایک سطر بھی اب تک نہیں لکھی میں نے


خود اپنے عشوہ و انداز کا شہید ہوں میں

خود اپنی ذات سے برتی ہے بے رخی میں نے


مرے حریف مری یکہ تازیوں پہ نثار

تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے


خراش نغمہ سے سینہ چھلا ہوا ہے مرا

فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے


دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط

دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے


زبانہ زن تھا جگر سوز تشنگی کا عذاب

سو جوف سینہ میں دوزخ انڈیل لی میں نے


سرور مے پہ بھی غالب رہا شعور مرا

کہ ہر رعایت غم ذہن میں رکھی میں نے


غم شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے

تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے


علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں

وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے


رہا میں شاہد تنہا نشین مسند غم

اور اپنے کرب انا سے غرض رکھی میں نے



www.000webhost.com