Jaun Elia

جون ایلیا

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا


مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ

مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا


یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں

مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا


بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا

سوچتی ہو تو سوچتی ہو کیا


اب مری کوئی زندگی ہی نہیں

اب بھی تم میری زندگی ہو کیا


کیا کہا عشق جاودانی ہے!

آخری بار مل رہی ہو کیا


ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے

تو بہت تیز روشنی ہو کیا


میرے سب طنز بے اثر ہی رہے

تم بہت دور جا چکی ہو کیا


دل میں اب سوز انتظار نہیں

شمع امید بجھ گئی ہو کیا


اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں

بان تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا



www.000webhost.com