Jaun Elia

جون ایلیا

فرقت میں وصلت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں

آشوب وحدت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


روح کل سے سب روحوں پر وصل کی حسرت طاری ہے

اک سر حکمت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


بے احوالی کی حالت ہے شاید یا شاید کہ نہیں

پر احوالیت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


مختاری کے لب سلوانا جبر عجب تر ٹھہرا ہے

ہیجان غیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


بابا الف ارشاد کناں ہیں پیش عدم کے بارے میں

حیرت بے حیرت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


معنی ہیں لفظوں سے برہم قہر خموشی عالم ہے

ایک عجب حجت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں


موجودی سے انکاری ہے اپنی ضد میں ناز وجود

حالت سی حالت برپا ہے اللہ ہو کے باڑے میں



www.000webhost.com