Jaun Elia

جون ایلیا

اس نے ہم کو گمان میں رکھا

اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا


کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے

حشر اس کی اٹھان میں رکھا


جوشش خوں نے اپنے فن کا حساب

ایک چپ اک چٹان میں رکھا


لمحے لمحے کی اپنی تھی اک شان

تو نے ہی ایک شان میں رکھا


ہم نے پیہم قبول و رد کر کے

اس کو ایک امتحان میں رکھا


تم تو اس یاد کی امان میں ہو

اس کو کس کی امان میں رکھا


اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو

کچھ نہیں آسمان میں رکھا



www.000webhost.com