Jaun Elia

جون ایلیا

اس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں

ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں


بند ہے مے کدوں کے دروازے

ہم تو بس یوں ہی چل نکلتے ہیں


میں اسی طرح تو بہلتا ہوں

اور سب جس طرح بہلتے ہیں


وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی

ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں


کیا تکلف کریں یہ کہنے میں

جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں


ہے اسے دور کا سفر در پیش

ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں


شام فرقت کی لہلہا اٹھی

وہ ہوا ہے کہ زخم بھرتے ہیں


ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی

چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں


ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں


تم بنو رنگ تم بنو خوشبو

ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں



www.000webhost.com