Jaun Elia

جون ایلیا

اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا

مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا


اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں

صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا


واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی

میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا


بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے

یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا


بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا

اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا


گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا

باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا


وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ

ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا



www.000webhost.com