Jaun Elia

جون ایلیا

ایک سایہ مرا مسیحا تھا

کون جانے وہ کون تھا کیا تھا


وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی

میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا


تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو

تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا


جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ

وصل سے انتظار اچھا تھا


بات تو دل شکن ہے پر یارو

عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا


اپنے معیار تک نہ پہنچا میں

مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا


جسم کی صاف گوئی کے با وصف

روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا



www.000webhost.com