Jaun Elia

جون ایلیا

اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں

سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں


کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں

سن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں


کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا

جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں


اب ہے بس اپنا سامنا در پیش

ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں


وہی ناز و ادا وہی غمزے

سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں


عجب الزام ہوں زمانے کا

کہ یہاں سب کے سر گیا ہوں میں


کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا

جب کہ واں عمر بھر گیا ہوں میں


تم سے جاناں ملا ہوں جس دن سے

بے طرح خود سے ڈر گیا ہوں میں


کوئے جاناں میں سوگ برپا ہے

کہ اچانک سدھر گیا ہوں میں



www.000webhost.com