Jaun Elia

جون ایلیا

ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے

دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے


رنگ موسم ہے اور باد صبا

شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے


فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں

میز پر گرد جمتی جاتی ہے


سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر

اب کسے رات بھر جگاتی ہے


میں بھی اذن نوا گری چاہوں

بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے


سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو

زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے


اس سراپا وفا کی فرقت میں

خواہش غیر کیوں ستاتی ہے


آپ اپنے سے ہم سخن رہنا

ہم نشیں سانس پھول جاتی ہے


کیا ستم ہے کہ اب تری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے


کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے

روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے



www.000webhost.com