Jaun Elia

جون ایلیا

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے

کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے


لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم

میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے


آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا

کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے


شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند

صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے


خود میں بھی بے اماں ہوں میں تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں

کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے


کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب

زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے


اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں

ایک عجیب کشمکش حلقۂ بے دلاں میں ہے


بود و نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر

سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے



www.000webhost.com