Jaun Elia

جون ایلیا

ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں

ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں


اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا

تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں


اک حسن بے مثال کی تمثیل کے لیے

پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں


کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھے

اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں


روحوں کے پردہ پوش گناہوں سے بے خبر

جسموں کی نیکیاں ہی گناتا رہا ہوں میں


تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کر

اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں


شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی

لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں


اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام

پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں


جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب

اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں


اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا

ذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں


بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آگہی

تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں


کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی

بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں



www.000webhost.com