Jaun Elia

جون ایلیا

دولت دہر سب لٹائی ہے

میں نے دل کی کمائی کھائی ہے


ایک لمحے کو تیر کرنے میں

میں نے اک زندگی گنوائی ہے


وہ جو سرمایۂ دل و جاں تھی

اب وہی آرزو پرائی ہے


تو ہے آخر کہاں کہ آج مجھے

بے طرح اپنی یاد آئی ہے


جان جاں تجھ سے دو بدو ہو کر

میں نے خود سے شکست کھائی ہے


عشق میرے گمان میں یاراں

دل کی اک زور آزمائی ہے


اس میں رہ کر بھی میں نہیں اس میں

جانیے دل میں کیا سمائی ہے


موج باد صبا پہ ہو کے سوار

وہ شمیم خیال آئی ہے


شرم کر تو کہ دشت حالت میں

تیری لیلیٰ نے خاک اڑائی ہے


بک نہیں پا رہا تھا سو میں نے

اپنی قیمت بہت بڑھائی ہے


وہ جو تھا جونؔ وہ کہیں بھی نہ تھا

حسن اک خواب کی جدائی ہے



www.000webhost.com