Jaun Elia

جون ایلیا

دل سے ہے بہت گریز پا تو

تو کون ہے اور ہے بھی کیا تو


کیوں مجھ میں گنوا رہا ہے خود کو

مجھ ایسے یہاں ہزار ہا تو


ہے تیری جدائی اور میں ہوں

ملتے ہی کہیں بچھڑ گیا تو


پوچھے جو تجھے کوئی ذرا بھی

جب میں نہ رہوں تو دیکھنا تو


اک سانس ہی بس لیا ہے میں نے

تو سانس نہ تھا سو کیا ہوا تو


ہے کون جو تیرا دھیان رکھے

باہر مرے بس کہیں نہ جا تو



www.000webhost.com