Jaun Elia

جون ایلیا

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے

عقل حیراں ہے کیا کیا جائے


شوق مشکل پسند ان کا حصول

سخت آساں ہے کیا کیا جائے


عشق خوباں کے ساتھ ہی ہم میں

ناز خوباں ہے کیا کیا جائے


بے سبب ہی مری طبیعت غم

سب سے نالاں ہے کیا کیا جائے


باوجود ان کی دل نوازی کے

دل گریزاں ہے کیا کیا جائے


میں تو نقد حیات لایا تھا

جنس ارزاں ہے کیا کیا جائے


ہم سمجھتے تھے عشق کو دشوار

یہ بھی آساں ہے کیا کیا جائے


وہ بہاروں کی ناز پروردہ

ہم پہ نازاں ہے کیا کیا جائے


مصر لطف و کرم میں بھی اے جونؔ

یاد کنعاں ہے کیا کیا جائے



www.000webhost.com