Jaun Elia

جون ایلیا

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو

جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو


آزادگی میں شرط بھی ہے احتیاط کی

پرواز کا ہے اذن مگر پر سمیٹ لو


حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا

سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو


بکھرا ہوا ہوں صرصر شام فراق سے

اب آ بھی جاؤ اور مجھے آ کر سمیٹ لو


رکھتا نہیں ہے کوئی نگفتہ کا یاں حساب

جو کچھ ہے دل میں اس کو لبوں پر سمیٹ لو



www.000webhost.com