Jaun Elia

جون ایلیا

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش

اور چاروں طرف ہے گھر درپیش


ہے یہ عالم عجیب اور یہاں

ماجرا ہے عجیب تر درپیش


دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی

میں رہا خود کو عمر بھر درپیش


اب میں کوئے عبث شتاب چلوں

کئی اک کام ہیں ادھر درپیش


اس کے دیدار کی امید کہاں

جب کہ ہے دید کو نظر درپیش


اب مری جان بچ گئی یعنی

ایک قاتل کی ہے سپر درپیش


کس طرح کوچ پر کمر باندھوں

ایک رہزن کی ہے کمر درپیش


خلوت ناز اور آئینہ

خود نگر کو ہے خود نگر درپیش



www.000webhost.com