Jaun Elia

جون ایلیا

دل کا دیار خواب میں دور تلک گزر رہا

پاؤں نہیں تھے درمیاں آج بڑا سفر رہا


ہو نہ سکا ہمیں کبھی اپنا خیال تک نصیب

نقش کسی خیال کا لوح خیال پر رہا


نقش گروں سے چاہیئے نقش و نگار کا حساب

رنگ کی بات مت کرو رنگ بہت بکھر رہا


جانے گماں کی وہ گلی ایسی جگہ ہے کون سی

دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کے مر رہا


دل مرے دل مجھے بھی تم اپنے خواص میں رکھو

یاراں تمہارے باب میں میں ہی نہ معتبر رہا


شہر فراق یار سے آئی ہے اک خبر مجھے

کوچۂ یاد یار سے کوئی نہیں ابھر رہا



www.000webhost.com