Jaun Elia

جون ایلیا

دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں

پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں


وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا

تھی عجب راحت آزادئ ایجاد اس میں


ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا

مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں


ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاش خد و خال

رنگ فصلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں


باغ جاں سے تو کبھی رات گئے گزرا ہے

کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اس میں


دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو

صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں



www.000webhost.com