Jaun Elia

جون ایلیا

دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم

ہاں میاں داستانیاں تھے ہم


ہم سنے اور سنائے جاتے تھے

رات بھر کی کہانیاں تھے ہم


جانے ہم کس کی بود کا تھے ثبوت

جانے کس کی نشانیاں تھے ہم


چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی

آخرش آسمانیاں تھے ہم


ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی

اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم


ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر

جاوداں جاودانیاں تھے ہم


روز اک رن تھا تیر و ترکش بن

تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم


ارغوانی تھا وہ پیالۂ ناف

ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم


نار پستان تھی وہ قتالہ

اور ہوس درمیانیاں تھے ہم


ناگہاں تھی اک آن آن کہ تھی

ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم



www.000webhost.com