Jaun Elia

جون ایلیا

دل برباد کو آباد کیا ہے میں نے

آج مدت میں تمہیں یاد کیا ہے میں نے


ذوق پرواز تب و تاب عطا فرما کر

صید کو لائق صیاد کیا ہے میں نے


تلخیٔ دور گزشتہ کا تصور کر کے

دل کو پھر مائل فریاد کیا ہے میں نے


آج اس سوز تصور کی خوشی میں اے دوست

طائر صبر کو آزاد کیا ہے میں نے


ہو کے اصرار غم تازہ سے مجبور فغاں

چشم کو اشک تر امداد کیا ہے میں نے


تم جسے کہتے تھے ہنگامہ پسندی میری

پھر وہی طرز غم ایجاد کیا ہے میں نے


پھر گوارا ہے مجھے عشق کی ہر اک مشکل

تازہ پھر شیوۂ فرہاد کیا ہے میں نے



www.000webhost.com