Jaun Elia

جون ایلیا

دھوپ اٹھاتا ہوں کہ اب سر پہ کوئی بار نہیں

بیچ دیوار ہے اور سایۂ دیوار نہیں


شہر کی گشت میں ہیں صبح سے سارے منصور

اب تو منصور وہی ہے جو سر دار نہیں


مت سنو مجھ سے جو آزار اٹھانے ہوں گے

اب کے آزار یہ پھیلا ہے کہ آزار نہیں


سوچتا ہوں کہ بھلا عمر کا حاصل کیا تھا

عمر بھر سانس لیے اور کوئی انبار نہیں


جن دکانوں نے لگائے تھے نگہ میں بازار

ان دکانوں کا یہ رونا ہے کہ بازار نہیں


اب وہ حالت ہے کہ تھک کر میں خدا ہو جاؤں

کوئی دل دار نہیں کوئی دل آزار نہیں


مجھ سے تم کام نہ لو کام میں لاؤ مجھ کو

کوئی تو شہر میں ایسا ہے کہ بیکار نہیں


یاد آشوب کا عالم تو وہ عالم ہے کہ اب

یاد مستوں کو تری یاد بھی درکار نہیں


وقت کو سود پہ دے اور نہ رکھ کوئی حساب

اب بھلا کیسا زیاں کوئی خریدار نہیں



www.000webhost.com