Jaun Elia

جون ایلیا

سوچا ہے کہ اب کار مسیحا نہ کریں گے

وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گے


اس بار وہ تلخی ہے کہ روٹھے بھی نہیں ہم

اب کے وہ لڑائی ہے کہ جھگڑا نہ کریں گے


یاں اس کے سلیقے کے ہیں آثار تو کیا ہم

اس پر بھی یہ کمرا تہ و بالا نہ کریں گے


اب نغمہ طرازان برافروختہ اے شہر

واسوخت کہیں گے غزل انشا نہ کریں گے


ایسا ہے کہ سینے میں سلگتی ہیں خراشیں

اب سانس بھی ہم لیں گے تو اچھا نہ کریں گے



www.000webhost.com