Jaun Elia

جون ایلیا

چلو باد بہاری جا رہی ہے

پیا جی کی سواری جا رہی ہے


شمال جاودان سبز جاں سے

تمنا کی عماری جا رہی ہے


فغاں اے دشمن دار دل و جاں

مری حالت سدھاری جا رہی ہے


جو ان روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے

کہ غم سے بردباری جا رہی ہے


ہے سینے میں عجب اک حشر برپا

کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے


میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں

وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے


دل اس کے رو بہ رو ہے اور گم صم

کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے


وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ

میاں عزت ہماری جا رہی ہے


ہے برپا ہر گلی میں شور نغمہ

مری فریاد ماری جا رہی ہے


وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت

میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے


دریغا تیری نزدیکی میاں جان

تری دوری پہ واری جا رہی ہے


بہت بد حال ہیں بستی ترے لوگ

تو پھر تو کیوں سنواری جا رہی ہے


تری مرہم نگاہی اے مسیحا

خراش دل پہ واری رہی ہے


خرابے میں عجب تھا شور برپا

دلوں سے انتظاری جا رہی ہے



www.000webhost.com