Jaun Elia

جون ایلیا

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا

زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا


تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی

تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا


ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ

مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا


جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے

کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا


بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے

گناہ ترک بادہ کر لیا کیا


یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں

سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا


اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک

بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا


تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں

بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا


بہت نزدیک آتی جا رہی ہو

بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

www.000webhost.com