Jaun Elia

جون ایلیا

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں

کہ ان کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں


نہیں ترک محبت پر وہ راضی

قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں


یقیں کا راستہ طے کرنے والے

بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں


یہ مت بھولو کہ یہ لمحات ہم کو

بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں


تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے

ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں


تمہیں چاہیں گے جب چھن جاؤ گی تم

ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں


کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے

ہم اپنے عیب خود گنوا رہے ہیں


وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں

مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں


دلیلوں سے اسے قائل کیا تھا

دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں


تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے

نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں


یہ جذب عشق ہے یا جذبۂ رحم

ترے آنسو مجھے رلوا رہے ہیں


عجب کچھ ربط ہے تم سے کہ تم کو

ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں


وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی

مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں



www.000webhost.com