Jaun Elia

جون ایلیا

بے قراری سی بے قراری ہے

وصل ہے اور فراق طاری ہے


جو گزاری نہ جا سکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے


نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر

اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے


بن تمہارے کبھی نہیں آئی

کیا مری نیند بھی تمہاری ہے


آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن

سانس جو چل رہی ہے آری ہے


اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں

رات دن تیری انتظاری ہے


ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہو

ہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے


اک مہک سمت دل سے آئی تھی

میں یہ سمجھا تری سواری ہے


حادثوں کا حساب ہے اپنا

ورنہ ہر آن سب کی باری ہے


خوش رہے تو کہ زندگی اپنی

عمر بھر کی امیدواری ہے



www.000webhost.com