Jaun Elia

جون ایلیا

بزم سے جب نگار اٹھتا ہے

میرے دل سے غبار اٹھتا ہے


میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت

دیکھ لو بار بار اٹھتا ہے


تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں

خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے


اس کی گل گشت سے روش بہ روش

رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے


تیرے جاتے ہی اس خرابے سے

شور گریہ ہزار اٹھتا ہے


کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں

لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے


صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال

دشت سے خاکسار اٹھتا ہے


ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا

بر سر کہسار اٹھتا ہے


کرب تنہائی ہے وہ شے کہ خدا

آدمی کو پکار اٹھتا ہے


تو نے پھر کسب زر کا ذکر کیا

کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے


لو وہ مجبور شہر صحرا سے

آج دیوانہ وار اٹھتا ہے


اپنے یاں تو زمانے والوں کا

روز ہی اعتبار اٹھتا ہے


جونؔ اٹھتا ہے یوں کہو یعنی

میرؔ و غالبؔ کا یار اٹھتا ہے



www.000webhost.com