Jaun Elia

جون ایلیا

بھٹکتا پھر رہا ہوں جستجو بن

سراپا آرزو ہوں آرزو بن


کوئی اس شہر کو تاراج کر دے

ہوئی ہے میری وحشت ہا و ہو بن


یہ سب معجز نمائی کی ہوس ہے

رفوگر آئے ہیں تار رفو بن


معاش بے دلاں پوچھو نہ یارو

نمو پاتے رہے رزق نمو بن


گزار اے شوق اب خلوت کی راتیں

گزارش بن گلہ بن گفتگو بن



www.000webhost.com