Jaun Elia

جون ایلیا

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی

سو مرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی


دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیا

دل میں تھی ایک ہی تو بات وہ جو فقط سہی گئی


جانئے کیا تلاش تھی جونؔ مرے وجود میں

جس کو میں ڈھونڈھتا گیا جو مجھے ڈھونڈھتی گئی


ایک خوشی کا حال ہے خوش سخناں کے درمیاں

عزت شائقین غم تھی جو رہی سہی گئی


بود و نبود کی تمیز ایک عذاب تھی کہ تھی

یعنی تمام زندگی دھند میں ڈوبتی گئی


اس کے جمال کا تھا دن میرا وجود اور پھر

صبح سے دھوپ بھی گئی رات سے چاندنی گئی


جب میں تھا شہر ذات کا تھا مرا ہر نفس عذاب

پھر میں وہاں کا تھا جہاں حالت ذات بھی گئی


گرد فشاں ہوں دشت میں سینہ زناں ہوں شہر میں

تھی جو صبائے سمت دل جانے کہاں چلی گئی


تم نے بہت شراب پی اس کا سبھی کو دکھ ہے جونؔ

اور جو دکھ ہے وہ یہ ہے تم کو شراب پی گئی



www.000webhost.com