Jaun Elia

جون ایلیا

بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں

میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں


اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال

جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں


ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے

اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں


کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے

وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے مجھ میں


ڈوبنے والوں کے دریا مجھے پایاب ملے

اس میں اب ڈوب رہا ہوں جو بھنور ہے مجھ میں


در و دیوار تو باہر کے ہیں ڈھانے والے

چاہے رہتا نہیں میں پر مرا گھر ہے مجھ میں


میں جو پیکار میں اندر کی ہوں بے تیغ و زرہ

آخرش کون ہے جو سینہ سپر ہے مجھ میں


معرکہ گرم ہے بے طور سا کوئی ہر دم

نہ کوئی تیغ سلامت نہ سپر ہے مجھ میں


زخم ہا زخم ہوں اور کوئی نہیں خوں کا نشاں

کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں



www.000webhost.com