Jaun Elia

جون ایلیا

بجا ارشاد فرمایا گیا ہے

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے


عنایت کی ہیں نا ممکن امیدیں

کرم ایجاد فرمایا گیا ہے


ہیں اب ہم اور زد ہے حادثوں کی

ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے


ذرا اس کی پر احوالی تو دیکھیں

جسے برباد فرمایا گیا ہے


نسیم سبزگی تھے ہم سو ہم کو

غبار افتاد فرمایا گیا ہے


مبارک فال نیک اے خسرو شہر

مجھے فرہاد فرمایا گیا ہے


سند بخشی ہے عشق بے غرض کی

بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے


سلیقے کو لب فریاد تیرے

ادا کی داد فرمایا گیا ہے


کہاں ہم اور کہاں حسن سر بام

ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے



www.000webhost.com