Jaun Elia

جون ایلیا

باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گے

ہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گے


خود آہنی نہیں ہو تو پوشش ہو آہنی

یوں شیشہ ہی رہو گے تو پتھر بھی آئیں گے


یہ دشت بے طرف ہے گمانوں کا موج خیز

اس میں سراب کیا کہ سمندر بھی آئیں گے


آشفتگی کی فصل کا آغاز ہے ابھی

آشفتگاں پلٹ کے ابھی گھر بھی آئیں گے


دیکھیں تو چل کے یار طلسمات سمت دل

مرنا بھی پڑ گیا تو چلو مر بھی آئیں گے


یہ شخص آج کچھ نہیں پر کل یہ دیکھیو

اس کی طرف قدم ہی نہیں سر بھی آئیں گے



www.000webhost.com