Jaun Elia

جون ایلیا

اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے

جو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے


اب کون زخم و زہر سے رکھے گا سلسلہ

جینے کی اب ہوس ہے ہمیں ہم تو مر گئے


اب کیا کہوں کہ سارا محلہ ہے شرمسار

میں ہوں عذاب میں کہ مرے زخم بھر گئے


ہم نے بھی زندگی کو تماشا بنا دیا

اس سے گزر گئے کبھی خود سے گزر گئے


تھا رن بھی زندگی کا عجب طرفہ ماجرا

یعنی اٹھے تو پاؤں مگر جونؔ سر گئے



www.000webhost.com