Jaun Elia

جون ایلیا

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں

اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں


تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ

آپ تو قتل عام کر رہے ہیں


داد و تحسین کا یہ شور ہے کیوں

ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں


ہم ہیں مصروف انتظام مگر

جانے کیا انتظام کر رہے ہیں


ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم

ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں


ایک قتالہ چاہیے ہم کو

ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں


کیا بھلا ساغر سفال کہ ہم

ناف پیالے کو جام کر رہے ہیں


ہم تو آئے تھے عرض مطلب کو

اور وہ احترام کر رہے ہیں


نہ اٹھے آہ کا دھواں بھی کہ وہ

کوئے دل میں خرام کر رہے ہیں


اس کے ہونٹوں پہ رکھ کے ہونٹ اپنے

بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں


ہم عجب ہیں کہ اس کے کوچے میں

بے سبب دھوم دھام کر رہے ہیں



www.000webhost.com