Jaun Elia

جون ایلیا

اپنی منزل کا راستہ بھیجو

جان ہم کو وہاں بلا بھیجو


کیا ہمارا نہیں رہا ساون

زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو


نئی کلیاں جو اب کھلی ہیں وہاں

ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو


ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں

درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو


دھول اڑتی ہے جو اس آنگن میں

اس کو بھیجو صبا صبا بھیجو


اے فقیرو گلی کے اس گل کی

تم ہمیں اپنی خاک پا بھیجو


شفق شام ہجر کے ہاتھوں

اپنی اتری ہوئی قبا بھیجو


کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختوں

کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو



www.000webhost.com