Jaun Elia

جون ایلیا

اپنا خاکہ لگتا ہوں

ایک تماشا لگتا ہوں


آئینوں کو زنگ لگا

اب میں کیسا لگتا ہوں


اب میں کوئی شخص نہیں

اس کا سایا لگتا ہوں


سارے رشتے تشنہ ہیں

کیا میں دریا لگتا ہوں


اس سے گلے مل کر خود کو

تنہا تنہا لگتا ہوں


خود کو میں سب آنکھوں میں

دھندلا دھندلا لگتا ہوں


میں ہر لمحہ اس گھر سے

جانے والا لگتا ہوں


کیا ہوئے وہ سب لوگ کہ میں

سونا سونا لگتا ہوں


مصلحت اس میں کیا ہے میری

ٹوٹا پھوٹا لگتا ہوں


کیا تم کو اس حال میں بھی

میں دنیا کا لگتا ہوں


کب کا روگی ہوں ویسے

شہر مسیحا لگتا ہوں


میرا تالو تر کر دو

سچ مچ پیاسا لگتا ہوں


مجھ سے کما لو کچھ پیسے

زندہ مردہ لگتا ہوں


میں نے سہے ہیں مکر اپنے

اب بیچارہ لگتا ہوں



www.000webhost.com